تازہ ترین

خطے کی ماضی کے حالات، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان تعلقات پر معروف صحافی فیض اللہ خان کا تبصرہ ـ

خطے کی ماضی کے حالات، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان تعلقات پر معروف صحافی فیض اللہ خان کا تبصرہ ـ

نائن الیون کے فوری بعد پاکستان کی قبائلی پٹی میں صرف عرب اور افغان طلبہ ہی نہیں پہنچے بلکہ ازبکستان و چین سے تعلق رکھنے والے جہادیوں کی نئی قرار گاہ بھی جنوبی و شمالی وزیرستان کرم اور باجوڑ سمیت دیگر علاقے بنے پاکستانی سیکیورٹی اداروں اور عرب جنگجوؤں کے درمیان پہلا تصادم تورہ بوڑا سے نکلے اسامہ کے ساتھیوں کیساتھ کوہاٹ روڈ پہ ہوا جسکے نتیجے میں دونوں جانب سے لوگ مارے گئے اور وہیں عربوں کی قبریں بنیں اس جھڑپ میں اسامہ کا ایک قریبی لیبیائی ساتھی کڑوروں مالیت رقم کیساتھ گرفتار ہوا جسے بعد میں قذافی حکومت کے حوالے کیا گیا (قارئین کی معلومات کے لئیے عرض ہے کہ عرب جنگجوؤں اور پاکستانی اداروں کے درمیان پہلی جھڑپ 96 میں پشاور کے قریب جلوزئی مہاجر کیمپ میں ہوئی تھی جسمیں چھے عرب اور کچھ پولیس اہلکار اپنی جانوں سے گئے جبکہ اسی عرصے میں اسلام آباد میں مصری سفارت خانے پہ بھی ایک ٹرک سے حملہ کیا گیا ) وزیرستان نائن الیون کے بعد افغانستان سے امریکی حملوں کے سبب نکلنے والے ال ***قاعدہ اراکین کی بہترین پناہ گاہ بنا یہیں اسامہ کی تنظیم نے انصار و مہاجر کی اصطلاح کو عام کردیا ان دنوں پاکستان میں طلبہ کا کوئی وجود نہ تھا البتہ عبد اللہ محسود نیک محمدوزیر مولوی نذیر اور حافظ گل بہادر کے نام نمایاں ہونے لگے یہ تمام وہ لوگ تھے جو نہ صرف مہاجرین کو پناہ دیتے تھے بلکہ افغانستان میں نیٹو فورسز پہ حملے بھی منظم کرنے جارہے تھے ۔

اس زمانے میں خود افغان طلبہ اور قبائیلیوں میں یہ بات عام ہونے لگی تھی کہ نیٹو و امریکی کچھ اس قسم کی ٹیکنالوجی کیساتھ افغانستان اترے ہیں کہ ان پہ کوئی گولی اثر نہیں کرسکتی وغیرہ وغیرہ انہی دنوں بدر منصور نامی پاکستانی کمانڈر نے جو کہ اسامہ کی تنظیم سے منسلک تھا وزیرستان سے ملحق پاک افغان سرحد پہ ایک امریکی کیمپ پہ حملے کا منصوبہ ترتیب دیا (پاکستان میں نیٹو کنٹینرز پہ حملوں کا ماسٹر مائنڈ یہی بدر منصور تھا سوات سے لیکر افغانستان تک امریکی نیٹو اور پاکستانی اداروں پہ کئی حملے اس نے منظم کئیے اور غالباً 2012/13 میں وزیرستان میں ایک بغیر پائیلٹ طیارے کے حملے کا نشانہ بنا ) اس حملے میں عرب پاکستانی اور افغان بھی شامل تھے رات گئے یہ کامیاب تعارض ہوا اور اس سے پہلے کہ فضائی کمک پہنچتی بدر کے ساتھی یہاں کاروائی کرکے ویڈیوز بناکر نکل گئے اس حملے سے جنگجوؤں کو اطمینان ہوگیا کہ جو باتیں انہوں نے سن رکھی تھی وہ مفروضہ تھیں نہ صرف امریکیوں پہ گولیاں اثر کرتی ہیں بلکہ ہمارا اسلحہ پگھلتا نہیں سلامت رہتا ہے ـ

دوسری جانب عبد اللہ محسود جو کہ ایک پاؤں سے معذور تھا وہ وزیرستان میں قوت بنکر ابھر رہا تھا جب پاکستانی میڈیا اسکے نام سے بھی باخبر نہ تھا الجزیرہ اسکے انٹرویوز کرچکا تھا وزیرستان میں طاقت پکڑتے گروہ (جو بعد میں پاکستانی طلبہ کہلائے ) کا پہلا نشانہ وزیرستان کے بدنام زمانہ ڈاکو بنے جنہوں نے اہل علاقہ کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی طلبہ نے نہ صرف انہیں قتل کیا بلکہ لاشیں بھی لٹکا دیں ـ

ان دنوں افغان طلبہ کے عسکری کمیشن کے سربراہ اور نہایت طاقتور رہنماء ملا داد تسلسل کیساتھ عبد اللہ و نیک محمد اور دیگر کے مہمان بنتے تھے اور بات صرف ملا داد تک محدود نہ رہی بلکہ افغان طلبہ کے ایک اور بڑے رہنماء استاد یاسربھی وزیرستان میں موجود رھتے استاد یاسر کا تعلق بیک وقت افغان طلبہ اسامہ اور پاکستانی طلبہ سے تھا اور یہ سارے دورے وہ افغان طلبہ سے وابستگی برقرار رکھتے ہوئے کیا کرتے ، استاد یاسر نہ صرف پڑھے لکھے عالم اور عربی کے ماھر تھے بلکہ 90 کی دھائی میں مجاہدین کی حکومت میں وزیر بھی رہ چکے تھے اور افغان طلبہ کے ایک اور اہم رہنماء جلال حقانی کا بھی وزیرستان میں اثرورسوخ تھا انکا وہیں بڑا مدرسہ تھا جہاں پاک افغان طلبہ اور عرب بیک وقت ملاقاتیں کیا کرتے تھے ۔

وزیرستان میں موجود عبد اللہ محسود و نیک محمد وزیر کی پاکستانی افواج کیساتھ جھڑپیں ہوئی اور کئی معاہدے بھی ہوئے البتہ مولوی نذیر و حافظ گل بہادر کی پہلی ترجیح ہمیشہ سے افغانستان رہی وہ پاکستان میں الجھنے سے گریز کرتے تھے اور ہمارے ساتھ انکے بھی معاہدے یا بہتر تعلقات تھے یہاں تک کہ ازبکستان کی اسلامی تحریک کے سربراہ طاہر اور اسکے جنگجوؤں کیساتھ وزیر قبائل کے معاملات اس حد تک خراب ہوئے کہ نوبت جنگ تک پہنچی اور پھر بیت اللہ نے ازبکوں اپنے محسود علاقے میں پناہ دی یوں وزیرستان کے ان تین چار بڑے گروہوں میں باھمی چپقلش بھی رھتی جسے ہمیشہ سے اسامہ کی تنظیم اور افغان طلبہ ختم کراتے یہاں تک کہ ایک بار ان سب کی مکمل صلح ہوگئی اور سب نے افغان طلبہ کے سربراہ کی باقاعدہ بیعت کی جب یہ سب ہورہا تھا تو امریکہ بھی اس جانب مکمل توجہ کیساتھ موجود تھا اور پھر یہاں ڈرون طیاروں سے حملوں کے طویل سلسلے کا آغاز ہوا اور ابتدائی طور پہ جو بڑے رہنماء اسکا نشانہ بنے ان میں حمزہ ربیعہ نیک محمدوزیر اور ابوللیث اللیبی شامل تھے ـ

دوسری طرف جب عبد اللہ محسود کے بیت اللہ وغیرہ سے اختلافات بڑھے تو افغان طلبہ یا پھر اسامہ کی تنظیم نے اسکی تشکیل داخل یعنی کہ افغانستان کیطرف کردی اور یہاں کے معاملات بیت اللہ نے مکمل طور پہ سنبھال لئیے جسکے بعد بیت اللہ اور پاک فوج کے درمیان مشہور امن معاہدہ ہوا اس سے پہلے کراچی میں کور کمانڈر کے قافلے پہ حملہ ہوا تھا جسے ناقابلِ یقین طور پہ نیک محمد وزیر نے وزیرستان آپریشن کا ردعمل قرار دیا ابتدائی طور پہ نیک محمد وزیر کے اس دعوے پہ شکوک کا اظہار کیا گیا مگر بعد میں اسکے تانے بانے عربوں اور پاکستانیوں سے ملنے لگے جو کراچی اور وزیرستان کے درمیان ایک طاقتور نیٹ ورک بناچکے تھے گو کہ اس سے پہلے کراچی میں امریکی سفارت خانے اور فرانسیسی انجینئروں کی بس پہ حملے ہوچکے تھے مگر یہ پہلی بار تھا کہ وزیرستان سے باھر کراچی جیسے بڑے شہر میں براہ راست پاک فوج کے اعلی افسر پہ حملہ کیا گیا غالباً 2004 میں ہونیوالے اس جان لیوا حملے کے تقریباً سبھی کردار نہ صرف گرفتار ہوئے بلکہ آج تک جیلوں میں ہیں مگر اسکے بعد کے دس سال پاکستان میں تباھی کا پیغام لیکر آئے اور اس جلتی پہ تیل لال مسجد آپریشن سے ڈالا گیا جسکے بعد بیت اللہ نے قبائلی پٹی میں موجود تمام عسکریت پسند گروپوں کو پاکستانی طلبہ کے نام سے منظم کیا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بیت اللہ سمیت تمام گروہ بارہا افغان طلبہ کی بیعت کا اقرار کرتے رھے ۔

یہ وہ عرصہ تھا جب افغان طلبہ کی مزاحمت جڑ پکڑ رہی تھی انہی دنوں انکے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے مختلف ممالک سے تعلقات اچھے ہونا شروع ہوتے چلے گئے اور ایک چیز جو واضح طور پہ محسوس کی گئی وہ اب پاکستانی طلبہ سے بظاہر فاصلہ تھا گو کہ اندرونی تعلق بحال تھا مگر جیسے ملاداد و استاد یاسر اور جلال حقانی کے بیٹے کھلے میں پاکستانی طلبہ سے ملا کرتے اس چیز پہ پردہ ڈال دیا گیا ـ

اس پورے عرصے میں جب پاکستانی طلبہ ہمارے اداروں پہ حملہ آور تھے تو افغان طلبہ اسکی مذمت کرتے اور نہ ہی تحسین ایک عجیب سا رشتہ تھا دونوں کے مابین آپریشن ضرب عضب کے بعد تمام پاکستانی طلبہ کے گروپ افغانستان منتقل ہوگئے وہاں انہیں بطور مہاجر افغان حکومت نے خوش آمدید کہا ، بظاہر انکے وجود سے انکاری افغان حکومت اور استخباراتی ادارے کا ہمیشہ سے مؤقف تھا کہ جب پاکستان میں افغان طلبہ کے محفوظ ٹھکانے ہوسکتے ہیں تو ہم پاکستانی طلبہ کو کیوں جگہیں و معاونت فراہم نہ کریں ؟ یہی وجہ تھی کہ پاکستانی سرحد سے متصل ننگرہار و کنٹر مہمند باجوڑ اور سواتی طلبہ کے محفوظ ٹھکانے قرار پائے جہاں کے دیہاتوں میں وہ اپنے خاندانوں کیساتھ رھنے لگے مقامی افغان ان سب کو پاکستان میں شریعت کی بالادستی کی جنگ لڑنے والے اور “پنجابی ” کے ستائے اپنے بھائی سمجھتے ہیں جلال آباد میں دوران قید ایک افغان عالم دین جو کہ طلبہ میں بیحد احترام بھی رکھتے تھے ، سے میں نے سوال کیا کہ آپ ملی اردو کیخلاف لڑتے ہیں پاکستانی طلبہ ہماری فوج کیخلاف لڑتے ہیں اور آپ ایک دوسرے کے مخالفین سے تعاون بھی لیتے ہیں تو یہ سب کیا ہے ؟ مولوی صاحب کا کہنا تھا کہ ہم ایک دوسرے کے مخالفین کے تعاون سے اپنی افواج سے لڑتے ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ ہم دونوں اپنے اپنے دشمنوں سے لڑتے ہیں جو کہ مرتد ہیں اور حقیقت میں ہمارے بھی دشمن ہیں یوں دیکھا جائے ہمارے مخالفین ہمیں کسی نہ کسی طرح طاقتور ہی بناتے ہیں ۔

وزیرستان کے طلبہ بھی افغان طلبہ سے اچھے مراسم رکھتے ہیں مگر جب بھی افغان طلبہ کے ترجمان سے اس تعلق کا سوال ہوتا ہے تو جواب میں صرف یہ سننے کو ملتا ہے کہ ” ہم اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ” آپ سہیل شاھین کے سارے انٹرویوز اٹھالیں اس سوال کا وہ ہمیشہ مختصر سا جواب دیکر اگلے سوال کیطرف آجاتے ہیں اور کل کلاں بہت ممکن ہے کہ پاکستانی میڈیا کے تابڑ توڑ سوالات کی بنیاد پہ وہ انکی مذمت کرتے ہوئے مکمل طور پہ لاتعلقی کا بھی اعلان کردیں مگر زمینی حقائق کیمطابق انکا مؤقف ہے کہ تمام مہاجرین کو پناہ دی جائے گی پاکستانی طلبہ سے انکا تعلق پیچیدہ بھی ہے اور اختلافات بھی ہیں گزشتہ دنوں پاکستانی طلبہ کے سابق ترجمان اور افغانستان میں میرے میزبان احسان اللہ احسان نے مہمند طلبہ کے سربراہ عمر خالد خراسانی کی بابت دلچسپ معلومات دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہمند طلبہ کا افغان طلبہ سے نہایت قریبی تعلق ہے حالانکہ مجھے لگتا تھا کہ اختلافات بہت زیادہ ہیں احسان کیمطابق اختلافات ضرور تھے مگر وہ طلبہ کے مرکزی نظم سے نہیں بلکہ انکے مقامی کمانڈروں سے تھے اور اس ضمن میں افغان طلبہ نے ہمیشہ مہمند طلبہ کے سربراہ کی نہ صرف بات سنی بلکہ داع ش کیخلاف جنگ میں مہمند طلبہ کو افغان طلبہ نے ٹاسک بھی دیا جسے اچھے سے پورا کیا گیا ـ

پاکستانی طلبہ ننگر ہار و کنٹر میں رھتے ہیں جہاں افغان طلبہ کی قوت موجود ہے مگر دلچسپ پہلو یہ ہے کہ افغان حکومت کے تعاون سے رھنے والے پاکستانی طلبہ کو انہوں نے کچھ نہیں کہا حالانکہ انہی صوبوں میں وہ داع ش کیخلاف خونریز جنگیں لڑی چکے ہیں مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستانی طلبہ نے داع ش کی جانب سے بھرپور پیشکش کے باوجود ان سے تقریباً فاصلہ رکھا اب بھلا یہ بات افغان طلبہ کیسے فراموش کرسکتے ہیں ؟

میری رائے ہے (جو کہ غلط بھی ہوسکتی ) کہ ہمیں پاک افغان طلبہ کو الگ الگ یا یکساں سمجھنے سے آگے بڑھ کر خطے کے امن میں تعاون کرنا چاہئیے اور اس کے لئیے جہاں ڈاکٹر اشرف غنی کو لچک دکھانے کی ضرورت ہے وہیں ہمیں بھی آگے بڑھنا چاھیئے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی مذھبی اور پشتون قوم پرست قیادت جن میں اسفندیار ولی محمود خان اچکزئی مولانا فضل الرحمان سراج الحق آفتاب شیر پاؤ منظور پشتین محسن داوڑ افرسیاب خٹک مفتی تقی عثمانی اور جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن پہ مشتمل بااختیار جرگہ اس سلسلے اچھا کردار ادا کرسکتے ہیں بشرطیکہ دونوں طرف کی قیادت دلوں کے میل کو نکالنے پہ آمادہ ہو اور پاک افغان ریجن کے امن کے لئیے کڑوے گھونٹ پینے میں حرج نہیں یورپی ممالک کے تجربے سے سیکھنے کی ضرورت ہے جو صدیوں تک ایک دوسرے کا خون بہانے کے بعد اب انسان کے بچوں کیطرح رہ رہے ہیں ہمارا تو دین ثقافت اور ہیروز سمیت بہت کچھ مشترکہ ہے تو پھر کیوں صلح کے لئیے آمادہ نہیں ؟؟؟

#بشکریہ:
فیض اللہ خان سینئر صحافی و تجزیہ نگار ـ

#نوٹ:
ٹرائبل نیوز ایک آزاد، خود مختار اور غیر جانب دار ادارہ ہے اس میں قارئین کے ساتھ سیاسی طور پر کسی بھی فریق کا نکتہ نظر شریک کیا جاتا ہے تاہم کسی کے ذاتی نکتہ نظر سے ٹرائبل نیوز کا متفق ہونا ضروری نہیں اگر آپ بھی اپنا موقف شائع کرنا چاھتے ہیں تو ہمارے ساتھ رابطہ رکھیں
Tribalnews.net@gmail.com

ایڈمن کے بارے میں admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے