تازہ ترین

پاک افغان ’باب دوستی‘ پر پاکستان نے طالبان کے مطالبات مان لئے

چمن/قندہار: (ٹرائبل نیوز) حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی چمن کے مقام پر سرحد کو افغان طالبان کی جانب سے بند کیا گیا ہے اور پاکستان کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔

ڈپٹی کمشنر چمن جمعہ داد خان مندوخیل نے منگل کو ڈی سی آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان نے پہلے بھی سرحد کو کھولے رکھا تھا اور ابھی بھی پاکستان کی جانب سے سرحد کھلی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے طالبان نے چمن کے مقام پر سپین بولدک سرحد بند کر دی تھی جس سے دونوں اطراف ہزاروں افراد پھنس کر رہ گئے تھے۔ طالبان نے پشتو زبان میں جاری کردہ ایک اعلامیے میں مطالبہ کیا تھا کہ سرحد پر آنے جانے والوں کو صرف مہاجر افغان کارڈ یعنی تذکرہ پر سرحد پار کرنے کی اجازت دی جائے اور سرحد کھولے جانے کے دورانیے میں اضافہ کیا جائے۔

اب بظاہر پاکستان نے یہ دونوں شرطیں مان لی ہیں اور صرف دستاویزات کے حامل افراد کو سرحد پار کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ کرونا ایس او پیز کی وجہ سے پاکستان نے سرحد کھلنے کا دورانیہ صبح آٹھ بجے سے 11 بجے تک کیا تھا جب کہ اب اسے بھی بڑھا کر صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک کر دیا گیا ہے۔

پیدل آمدورفت اور ہر قسم تجارت کے لیے یہی وقت کارآمد ہوگا۔ تمام افراد کے لیے کرونا (کورونا) ایس او پیز کے تحت تجارت اور پیدل آمدورفت ہو گی۔ 

اس کے علاوہ چمن پاکستان افغانستان سرحد پر پہلے کی طرح افغان تذکرہ (یعنی افغانی شناخت کارڈر ہولڈرز) اور پاکستانی قومی شناخت کارڈ پر دوطرفہ آمدورفت کا ذریعہ ہوگی۔

واضح رہے کہ حال ہی میں طالبان نے پیش قدمی کرتے ہوئے پانچ صوبوں پر قبضہ کرتے ہوئے طورخم کے علاوہ پاکستان، ایران، تاجکستان اور ازبکستان کے ساتھ بارڈرز پر قبضہ کرلیا ہے ـ

ایڈمن کے بارے میں admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے