تازہ ترین

ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے خراب تعلقات سے داعش فائدہ اٹھا سکتا ہے ـ تحریر: ابو محمد یاسر

ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے خراب تعلقات سے داعش فائدہ اٹھا سکتا ہے ـ

تحریر: ابو محمد یاسر

قطر کے دار الحکومت دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان تاریخی اور طویل مذاکرات کے بعد گزشتہ سال 29 فروری 2020ء کو تحریری معاہدہ طے پایا گیا، مذاکرات میں جو شرائط تھیں، ان میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ (’دہشتگردی‘ کی روک تھام کے سلسلے میں) افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی دوسری ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی ـ

جب افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان قطر میں یہ معاہدہ طے پایا گیا تو طالبان ترجمانان سے بار بار یہ سوال دہرایا گیا کہ ٹی ٹی پی افغان سرزمین میں موجود ہے اس بارے میں ان کا کیا موقف ہے؟ جس کے جواب میں یہی کہا جارہا ہے کہ ”افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی“ـ

بظاہر تو یوں لگ رہا ہے اور کئی صحافیوں و کالم نگاروں کا تجزیہ بھی یہی ہے کہ افغان اور پاکستانی طالبان ایک سکے کے دو رخ ہیں، جس کے چلتے سال 2004/05ء سے طالبان کے سربراہ ملا داد اللہ اخوند اور ان سمیت دیگر افغان طالبان کے اہم رہنماؤں کو وزیرستان سمیت مختلف قبائلی علاقوں میں پناہ ملی، اس وقت ٹی ٹی پی کے علاقائی جنگجو نہ صرف افغانستان میں باقاعدہ جنگ کیلئے افغانستان جاتے تھے بلکہ ان کو باقاعدہ مراکز بھی پاکستانی طالبان نے فراہم کئے تھے ـ

دوسری طرف قبائلی پٹی سمیت ملاکنڈ ڈویژن اور سوات، دیر وغیرہ میں بھی پاکستانی طالبان سر اٹھانے لگے اور افواج پاکستان کے خلاف بھرپور تحریک شروع کی، کچھ عرصہ تک تمام جنگجو علاقائی سطح تک محدود رہے اور اپنے اپنے علاقوں میں سرگرمیاں شروع کیں، یہ سلسلہ چلتا رہا کہ پاکستانی طالبان کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لانے کی کوششیں شروع ہوئیں جس کی مرکزی کردار مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے با اثر جنگجو کمانڈر عمرخالد خراسانی تھے ـ

اس کے بعد تمام گروپس ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے اور تحریک طالبان پاکستان کا اعلان کیا گیا جس کی قیادت بیت اللہ محسود نے کی، جو بعد میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے ـ

آمدم برسر مقصد!
چونکہ اب افغانستان پر طالبان قابض ہوگئے ہیں اور پورے ملک پر مکمل کنٹرور حاصل کر لیا ہے، اب ان کیلئے نیا امتحان اور پاکستان کا مطالبہ ٹی ٹی پی کو پاکستان میں حملوں سے روکنا ہے ـ میرے مطابق طالبان پہلے تو ٹی ٹی پی کے وہ احسانات نہیں بھول پائیں گے جو ان کے ساتھ کئے ہیں، جہاں قبائلی علاقوں میں ان کو بھر پور سپورٹ ملا او وہاں سے انہیں قابل ذکر قوت بھی ملی ـ

اگر افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو پاکستان میں حملوں سے روکنے کی کوشش کی تو ٹی ٹی پی میں بہت سارے ایسے جنگجو موجود ہیں جن کے باپ، بھائی، رشتہ داروں کو خفیہ اداروں نے شدید ٹارچر کرکے قتل کیا ہے، اس کے علاوہ اکثر جنگجؤوں کے گھروں کو مسمار کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ نظریاتی طور پر پاکستان کیخلاف جنگ سے بیزار نہیں ہوسکتے ـ زیادہ امکان یہی ہے کہ ان کو روکنے کی کوشش میں افغان طالبان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، اگر ایسے حالت بن گئے تو اسی وقت پاکستان اور افغانستان میں موجود داعش کی شاخوں کو موقع ملے گا اور وہ بھرپور انداز میں تحریک طالبان کے ناراض جنگجؤوں کے ساتھ ملکر افغان طالبان کے خلاف جنگ لڑنے کی تیاری کرسکتے ہیں، جس سے نہ صرف افغان طالبان کو نقصان پہنچے گا بلکہ یہ نئی جنگی قوت پورے خطے کیلئے ایک نیا چیلج بنے گا جس کو کنٹرول کرنا انتہائی مشکل ثابت ہوگاـ

اس مسئلے کا ایک اور حل یہ بھی ہے کہ اگر افغان طالبان اپنے لئے مسئلے پیدا نہیں کرنا چاہتے اور بات تصادم کی طرف نہیں لے جاتے تو اس صورت میں افغان طالبان ٹی ٹی پی اور پاکستانی حکومت کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرے اور تحریک طالبان پاکستان کے جائز مطالبات مان کر انہیں واپس پاکستان میں اپنے جگہوں پر واپس لے جائے ـ

یہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ٹی ٹی پی کے تمام حلقہ جات مذاکرات پر راضی نہیں ہوں گے، پاکستانی طالبان کے باوثوق ذرائع سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ مہمند ایجنسی اور سوات کے طالبان یعنی مولانا فضل اللہ اور عمر خالد خراسانی کی ذہنیت رکھنے والے جنگجو مذاکرات کے حامی نہیں ہیں اور یہ ٹی ٹی پی کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت بھی رکھتے ہیں تو یہاں ٹی ٹی پی کو اندرونی چیلنجز سے بھی نمٹنا ہوگا ـ

اگر ٹی ٹی پی اور افواج پاکستان کے درمیان مذکرات کی راہ بنتی بھی ہے تو خالی از امتحان نہیں، کیونکہ ٹی ٹی پی کے اکثر جنگجو پاکستان پر اعتماد نہیں کرتے ان کے درمیان اعتماد کو بحال کرنا بھی ایک مستقل مسئلہ ہے ـ

#نوٹ
ٹرائبل نیوز ایک آزاد، خود مختار اور غیر جانب دار ادارہ ہے اس میں قارئین کے ساتھ سیاسی طور پر کسی بھی فریق کا نکتہ نظر شریک کیا جاتا ہے تاہم کسی کے ذاتی نکتہ نظر سے ٹرائبل نیوز کا متفق ہونا ضروری نہیں اگر آپ بھی اپنا موقف شائع کرنا چاھتے ہیں تو ہمارے ساتھ رابطہ رکھیں
Tribalnews.net@gmail.com

ایڈمن کے بارے میں admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے