تازہ ترین

ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز پر ٹی ٹی پی کیجانب سے حملوں میں واضح تیزی آئی ہے ـ
خصوصی رپورٹ

ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز پر ٹی ٹی پی کیجانب سے حملوں میں واضح تیزی آئی ہے ـ

خصوصی رپورٹ

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع اور خیبر پختونخوا کے دیگر حصوں میں حالیہ حملے 2006 اور 2007 کے حملوں سے ملتے جلتے ہیں ، ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے حملوں میں واضح تیزی آئی ہیں اور حملوں کا سلسلہ ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ـ

پچھلے کچھ دنوں میں جنوبی وزیرستان ، ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور میں فوجی ، ایف سی اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ، جس میں بھاری تعداد میں سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔

اس سے قبل شمالی وزیرستان اور کرم ایجنسیوں میں بھی اسی طرح کے واقعات ہوئے جن میں سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔
عسکری تجزیہ کار اور پاک فوج کے سابق افسر (بریگیڈیئر) سید نذیر کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز پر حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

سید نذیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں موجودہ حملے اور ٹارگٹ کلنگ 2006 اور 2007 کی طرح ہیں ، جس کے بعد یہ سلسلہ بڑھ گیا۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے خیبرپختونخوا میں زیادہ تر حالیہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

پاکستانی طالبان نے گذشتہ ماہ 26حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں وزیرستان میں 13 ، باجوڑ میں پانچ ، شمالی وزیرستان میں تین ، دیر میں دو ، پشاور ، کرم اور مردان میں ایک ایک حملے شامل ہیں۔

سیاسی کارکن ننگیال بیٹنی کا کہنا ہے کہ عام لوگ بدامنی کی موجودہ لہر سے پریشان ہیں اور خدشہ ہے کہ حکومت سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

چند روز قبل تحریک طالبان پاکستان کے امیر مفتی نور ولی محسود نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز کے خلاف لڑ رہے ہیں اور کہا کہ وہ قبائلی علاقوں سمیت بڑے علاقوں کو پاکستانی فوج سے چھین کر آزاد کرائیں گے ـ

17 جولائی کو پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن چینل 92 نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں ، فوج کی پریس سروس آئی ایس پی آر کے سربراہ بابر افتخار نے پاکستان میں تازہ ترین بدامنی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کوئی منظم دہشت گرد نیٹ ورک نہیں ہے ـ

لیکن دوسری جانب پاکستان میں حکومت مخالف سیاسی جماعتوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں ایک بار پھر جمع ہو رہے ہیں اور ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں شدت آئی ہے ـ

ایڈمن کے بارے میں admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے