اے پی ایس پشاور پر حملہ پاک فوج کی "ان سائیڈ جاب ” تھی . احسان اللہ احسان

اے پی ایس پشاور پر حملہ پاک فوج کی ”ان سائیڈ جاب“ تھی، احسان اللہ احسان

سابق طالبان ترجمان احسان اللہ احسان نے سینٹرم میڈیا ( ٹی سی ایم ) کو دیئے گئے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ فوج نے خود کروایا تھاـ

گزشتہ روز انٹرویو پبلش ہونے کے بعد احسان اللہ احسان نے ایک فیس بک پوسٹ میں ٹی سی ایم پر صحافتی خیانت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کے انٹرویو کے اس حصے کو سنسر کیا گیا ہے جس میں انہوں نے آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے میں آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کا ذکر کیا تھا ـ

ٹی سی ایم کو دیئے گئے انٹرویو جس میں کٹائی کی گئی ہے

:https://youtu.be/5hFeFvOIt6s

ٹی سی ایم کے شائع کردہ انٹرویو میں کیا ہے؟

ٹی سی ایم نے گزشتہ شام احسان اللہ احسان کا جو انٹرویو شائع کیا تھا اس میں کچھ جگہوں پر ان کی آواز کو میوٹ جبکہ ایک جگہ پر بیف لگائی گئی ہے جو احسان اللہ احسان کے دعوے کو سچ ثابت کر رہی ہے کہ ان کے انٹرویو کو کانٹ چھانٹ کرکے نشر کیا گیا ہے ـ

تا ہم آج احسان اللہ احسان نے اپنے اکاؤنٹ پر سینٹرم میڈیا کو دیا گیا پورا جواب جاری کیا جس کو تحریری شکل مین پیش کیا جا رہا ہے ـ

فیس بک پر شائع ہونے والا مکمل انٹر ویو
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=122490400081588&id=100069618863415

یوٹیوب پر شائع ہونا والا احسان اللہ احسان کا اے پی ایس سے متعلق جواب:
https://youtu.be/5hFeFvOIt6s

احسان اللہ اللہ نے کہا ہے کہ
”میں نائن الیون اور ممبئ حملوں کے حوالے سے زیادہ حقائق نہیں جانتا کہ وہ کتنے ان سائیڈ جاب تھے یا وہ کتنے آؤٹ سائیڈ جاب، مگر آرمی پبلک سکول حوالے سے ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ وہ پاکستان آرمی کی ان سائیڈ جاب ہی تھی اور پاکستانی فوج نے ہی وہ حملہ کروایا تھا گو کہ اس حملے میں پاکستانی طالبان کے ایک کمانڈر کو استعمال کیا گیا تھاـ

اس حملے کو سمجھنے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ٹی ٹی پی کس طرح حملے کرواتی ہے یا کس طرح اپریٹ کرتی ہے؟ـ طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے سلیپر سیلز جو شہری علاقوں میں ہوتے ہیں وہ اہداف کا تعین کرتے ہیں اور ان اہداف کے حصول کے لیے منصوبہ بناتے ہیں، منصوبہ بنانے کے بعد وہ مرکز کی طرف بھیجتے ہیں، مرکز اس کو اپروول دیتا ہے اور اس کے لیے وسائل وغیرہ فراہم کرکے حملہ سر انجام دیتا ہےـ

کچھ حملے مرکز کی طرف سے بھی اہداف دیکر کروائے جاتے ہیں مگر زیادہ تر تقریبا 80 فیصد حملے وہ سلیپر سیلز جو مقامی طور پر موجود ہوتے ہیں، کرواتے ہیں تو یہ حملہ بھی ایک مقامی بندے نے جو ٹی ٹی پی کیساتھ کام کرتا تھا، نے منصوبہ بنا کر مرکز کی طرف بھیجا تھا اور اس نے بتایا تھا کہ میں آرمی پبلک سکول کے نام سے ایک فوجی سکول جس میں آرمی افسران کے بچے پڑھتے ہیں اس پر حملہ کرکے ہم اس کو یرغمال بناتے ہیں اور اپنے قیدی چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں ـ

اس نیت سے انہوں نے (درہ آدم خیل کے امیر) کمانڈر خلیفہ عمر منصور کو اپنا منصوبہ بھیجا جنہوں نے اس کو اپروول دیا اور اس حملے کی اجازت دے دی، یہ حملہ دراصل ایک ریٹائر بریگیڈئیر کی طرف سے ڈیزائن کیا گیا تھا جو آئی ایس آئی کیساتھ کام کر رہا تھا مگر ہم سب کو پتہ ہے کہ انٹیلیجنس اداروں کے افسران ریٹائرڈ ہوکر بھی ادارے کے لیے ہی کام کرتے ہیں ـ

جب منصوبہ آیا تو عمر منصور نے اس پر عمل درآمد کے لیے وسائل مقامی بندے کو فراہم کئے اور وہ حملہ ہوگیا لیکن حملہ کا ہدف کسی کو مارنا نہیں تھا بلکہ وہ وہاں بچوں کو یرغمال بنانا تھا اور اس طریقے سے اپنے قیدی چھڑانا تھا اور جو معلومات دی گئی تھیں اس میں بتایا گیا کہ یہ آرمی افسران کے بچے ہیں ـ

لیکن جب حملہ سر انجام پایا اور عمر منصور نے ٹی ٹی پی مرکز کی اجازت کے بغیر اس کی ذمہ داری قبول کی، بعد میں ترجمان نے بھی بامر مجبوری اس حملے کی حمایت کی مگر ٹی ٹی پی کے اندر اس حملے کے لیے قبولیت نہیں تھی، سب اس حملے کے خلاف تھے، بچوں کو مارنے کے حق میں کوئی بھی نہیں تھا ـ

بعد میں جب ٹی ٹی پی نے اس بندے کو بلایا جس نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی اور منصوبہ اپنے کمانڈر تک پہنچایا تھا، ان سے تفتیش کی گئی تو معلوم ہوا کہ ایک ریٹائرڈ فوجی افسر ہے جس نے اس حملے کو ڈیزائن کیا ہے اور انہوں نے ہی اس حملے میں مقامی بندے کو مدد فراہم کی تھی ـ

اسکے بعد ٹی ٹی پی نے اس بندے کے خلاف ایکشن لیا جو اس حملے میں براہ راست ملوث تھا ـ میری معلومات کے مطابق اس بندے کو قتل کر دیا گیا لیکن ٹی ٹی پی نے بدنامی سے بچنے کے لیے اس بات کو چھپایا تاکہ ان پر جو پریشر آرہا تھا وہ کم ہو سکے ـ

یہ حملہ پاکستانی فوج کی خواہش پر ہی ہوا تھا لیکن ٹی ٹی پی کا ایک کمانڈر اپنی نادانی کی وجہ سے اس میں استعمال ہوا مگر سچ یہی ہے کہ اے پی ایس کا حملہ پاکستانی فوج نے ہی کروایا تھا ـ

ایک پاکستانی فوجی جس کا نام مدثر اقبال ہے جو اے پی ایس حملے کے وقت اس فوجی دستے کا حصہ تھے اور جو وہاں پہنچے بھی تھے، اس نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا اور کہا کہ اس حملے میں جتنے بھی بچے مارے گئے تھے وہ پاک آرمی کے ان اہلکاروں نے مارے جو ان کو بچانے کے لیے سکول میں گئے تھے کیونکہ جو خودکش حملہ آور وہاں تھے انہیں وہاں موجود لوگوں کو یرغمال بنانے کی ہدایت کی گئی تھی، وہ سیکیورٹی گارڈز کو مار کر بچوں کو یرغمال بنانا ہی چاہتے تھے کہ آرمی نے ایکشن لیا اور ان بچون کو خود گولیاں ماری جتنا بھی قتل عام ہوا اس میں زیادہ لوگ فوجی اہلکاروں کی طرف سے ہی مارے گئے تھے ـ

نوٹ:

ٹرائبل نیوز ایک آزاد، خود مختار اور غیر جانب دار ادارہ ہے اس میں قارئین کے ساتھ سیاسی طور پر کسی بھی فریق کا نکتہ نظر شریک کیا جاتا ہے تاہم کسی کے ذاتی نکتہ نظر سے ٹرائبل نیوز کا متفق ہونا ضروری نہیں اگر آپ بھی اپنا موقف شائع کرنا چاھتے ہیں تو ہمارے ساتھ رابطہ رکھیں
Tribalnews.net@gmail.com

About admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے